باپ نے کمائی میں ہر جتن تھا کر ڈالا
میری ہی خوشی کی خاطر رات دن ایک کیے
میرے چین کی خاطر دکھ درد بھی اٹھائے
ان کی عظمتیں جانو اور رفعتیں بھی پہچانو
ان کی خدمتیں کر لو ساری باتیں بھی مانو
میرے سات سالہ صحافتی کیریئر کا آغاز یہیں پارلیمنٹ سے ہوا. پارلیمنٹ وہ ادارہ ہے جہاں اہم قانون سازی ہوتی ہے، ایوان بالا اور ایوان زیریں دونوں میں عوامی نمائندے عوام کے مسائل پر اپنی آواز اٹھاتے ہیں اور قانون سازی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں،جیسا کہ میں عرصہ دراز سے سوشل اور انسانی حقوق کے ایشوز پر کالمز بھی لکھتی ہوں ، پچھلے دو سال سے باقاعدہ طور پر سماجی وانسانی حقوق کے لیے کام اور آواز اٹھاکراپنا کردار ادا کر رہی ہوں ۔آج والدین کےہمراہ پارلیمنٹ کا وزٹ کیا جس میں
اپنی آج تک کی کامیابیاں اپنے والدین کے نام کرتے ہوئے میں نےانہیں فخر سے کہا کہ جو آپ نے میری تربیت کی، شخصیت اور اعتماد دیا یہ سب اسی کا نتیجہ ہے،
اور مجھے آپ کی بیٹی ہونے کےناطے فخر ہے کہ میں نے آپ عظیم والدین کی گود سے پرورش اور تربیت پائی، آپ کے دیئے ہوئے حوصلے اور دعاؤں نے ہمیشہ میری ہمت بندھائی اور میری پرواز کو جلا بخشی،
ماں باپ کاایسا مقدس اور بے لوث رشتہ ہے جو خود زندگی کی تمام تکلیفیں، مشکلات جھیل کر ہمارے لیے سکون اور خوشیاں تلاش کرتے ہیں.
آج میں جہاں بھی ہوں اپنے والدین کی شفقت، تربیت اور محنت کی وجہ سے ہوں اور
یہ عزم کرتی ہوں کہ انشاءاللہ مستقبل میں بھی آگے بڑھ کر ملک وقوم کی تعمیر وترقی اور بہترین معاشرے کی تشکیل میں اپنا بھرپور کردار ادا کروں گی اور اپنے ان عظیم والدین کے لیے فخر بنوں گی.
دعا ہے اللہ تعالیٰ میرے والدین کو طول عمر عطا فرمائیں اور باقی سب کے والدین کو بھی سلامت رکھے اور ہمیں اپنے والدین کی قدر اور خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں ،
آمین




