اگر سیاست کو محض اقتدار کی کشمکش سمجھا جائے تو یہ تجزیہ سطحی اور مفاداتی سوچ کا حامل رہتا ہے۔ سیاست دراصل طاقت، اعتماد، ادارہ جاتی مضبوطی اور معاشی ترجیحات کے درمیان ایک مسلسل مکالمہ ہے ایک ایسا مکالمہ جو نعروں سے نہیں بلکہ فیصلوں سے آگے بڑھتا ہے۔ اسی زاویے سے جب چوہدری سعید صاحب کے کردار کو دیکھا جائے تو وہ ایک فرد نہیں رہتے بلکہ ایک سیاسی ساخت بن جاتے ہیں ایسی ساخت جو خود کو نمایاں نہیں کرتی مگر پورے نظام کے توازن میں خاموشی سے شامل رہتی ہے۔ یہ وہ قوت ہوتی ہے جو منظر پر کم اور پس منظر میں زیادہ کام کرتی ہے۔ چوہدری سعید صاحب کی سیاست اسی غیر مرئی مگر فیصلہ کن دائرے میں حرکت کرتی ہے۔ میرپور سے لے کر پورے آزاد کشمیر تک ان کی شناخت شور کی پیداوار نہیں بلکہ اعتماد کے ارتکاز سے بنی ہے۔ وہ سیاست کو اظہار کا میدان نہیں، انتظام امکان کا عمل سمجھتے ہیں۔ یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے پائیدار قیادت فاشزم سے فاصلہ رکھتی ہے۔ فاشزم یا انتقامی ذہنیت کی حامل کی سیاست کا وقت تھوڑا ہوتا ہے جبکہ ترقی پسندانہ سیاست کا شور کم بھی ہو مگر دور لمبا ہوتا ہے۔ چوہدری سعید صاحب کی سیاست میں سمت ہمیشہ واضح رہی اور انکے اعلی ظرف ہونے کی وضاحت انکے سیاسی رویے کرتے رہے اور یہی وضاحت ان کی خاموشی کو بھی معنی دیتی ہے۔ وہ بولتے کم ہیں کیونکہ ان کے فیصلے پہلے ہی بول چکے ہوتے ہیں۔

2011 میں مسلم لیگ ن کے ساتھ ان کی وابستگی کو اگر گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ محض جماعتی صف بندی نہیں بلکہ ایک فکری ہم آہنگی تھی۔ ایک ایسی سیاست کے ساتھ جڑنا جو ریاستی حقوق کو جذباتی نعروں کے بجائے معاشی استحکام اور ادارہ جاتی مضبوطی کے ذریعے محفوظ کرنا چاہتی تھی۔ میاں نواز شریف کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں ان کا زور ہمیشہ ان نکات پر رہا جو عام سیاسی بیانیے میں ثانوی سمجھے جاتے ہیں جیسا کہ سرمایہ کا تحفظ، تجارتی تسلسل، پیداواری ڈھانچے کی بہتری اور ریاست کی معاشی خود کفالت۔ یہ وہ عناصر ہیں جو ریاستوں کو زندہ رکھتے ہیں، چاہے جلسوں میں ان کا ذکر کم ہو۔

میرپور کو ایک موثر تجارتی مرکز بنانے کا عمل کسی جذباتی منصوبے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک مرحلہ وار حکمت عملی کا حاصل تھا۔ یہاں سیاست نے خود کو ضابطے میں رکھا، تاکہ معیشت سانس لے سکے۔ جب ریاست یہ اشارہ دے کہ کاروبار کو عارضی رعایت نہیں بلکہ مستقل احترام ملے گا تو سرمایہ خود راستہ ڈھونڈ لیتا ہے۔ میرپور میں بڑے برانڈز کی موجودگی محض معاشی سرگرمی نہیں بلکہ ایک نفسیاتی تبدیلی کی علامت تھی یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ چوہدری سعید صاحب پہ اعتماد اب کاروباری دنیا کی پالیسی کا حصہ بن چکا ہے۔

2016 کا انتخاب آزاد کشمیر کی سیاست میں محض ایک ووٹوں کی عددی فتح نہیں تھا بلکہ ایک پختہ سیاسی سوچ کا اظہار تھا۔ بیرسٹر سلطان محمود جیسے مضبوط اور دیرینہ سیاسی فگر کو شکست دینا اس امر کی علامت تھا کہ ووٹر کا ذہن تبدیل ہو چکا ہے۔ یہاں عوام نے خطابت کے شور کے مقابلے میں انتظامی اہلیت، فکری سمت اور معاشی امکان کو ترجیح دی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب سیاست میں وزن آواز سے نکل کر مواد میں منتقل ہوا۔

وزارتِ کھیل کے دوران چوہدری سعید صاحب کا انداز حکمرانی اس نکتے کی عملی تشریح تھا کہ اختیار اگر بغیر نظم کے ہو تو بوجھ بن جاتا ہے اور اگر نظم کے ساتھ ہو تو طاقت میں ڈھل جاتا ہے۔ انہوں نے وزارت کھیل کو کسی نمائشی کامیابی کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ ایک مربوطہ نظام کے طور پر آگے بڑھایا۔ کم بجٹ والی وزارت ہونے کے باوجود بھی ایسے اقدامات کیے کہ اس وزارت کو زبان زدعام کیا اور انہی اقدامات نے انکو نوجوانوں کے پسندیدہ لیڈر کے طور پہ مشہور کیا۔ اسکے علاوہ انکی پختہ سیاسی سوچ کی بدولت مقامی کاروبار کو ریاستی شناخت ملی، سرمایہ کاری کو انتظامی تحفظ حاصل ہوا، اور معیشت کو وہ تسلسل نصیب ہوا جو محض منصوبوں سے نہیں بلکہ اعتماد کی فضا سے جنم لیتا ہے۔ ان کی سیاسی شخصیت کا ایک اور اہم پہلو ان کی وسعت نظر ہے۔ وہ سیاست کو کھینچا تانی کا میدان نہیں بلکہ اجتماعیت کو فروغ دینے کا عمل سمجھتے ہیں۔ نئے آنے والوں کو خطرہ سمجھنے کے بجائے وہ انہیں نظام کی تازہ توانائی تصور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی موجودگی میں مسلم لیگ ن میرپور میں محض انتخابی قوت نہیں بنی بلکہ ایک منظم اور جڑ پکڑتی ہوئی سیاسی قوت میں ڈھل گئی۔ یہ استحکام کسی ایک انتخاب کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل فکری ہم آہنگی کا ثمر تھا۔

خرابی صحت کے باوجود ان کی سیاسی ذمہ داری میں کوئی دراڑ نہ آنا اس بات کی دلیل ہے کہ اصل قیادت جسمانی حرکت کی محتاج نہیں ہوتی۔ قیادت وہی ہوتی ہے جو بحران میں بھی سمت برقرار رکھے، شور کے بغیر توازن قائم رکھے اور دباو کے عالم میں بھی فیصلہ سازی کی جرات کو قائم رکھے۔ انہوں نے یہ سب کچھ خاموشی سے کیا اور یہی خاموشی ان کی طاقت بنی۔

ان کے کردار پر کہی جانے والی کہاوتیں محض ادبی حسن نہیں بلکہ مکمل سیاسی تشریح ہیں:

خاموش دریا گہرے ہوتے ہیں کیونکہ گہرائی کو اعلان کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اور کھرا سکہ وقت کی رگڑ سے اور چمکتا ہے کیونکہ اصل قدر آزمائش کے بغیر ظاہر نہیں ہوتی۔

چوہدری سعید صاحب ان سیاستدانوں میں شامل نہیں جو اپنی موجودگی ثابت کرنے کے لیے مسلسل منظر پر رہیں۔ وہ ان میں سے ہیں جن کی عدم موجودگی بھی نظام میں محسوس کی جاتی ہے۔ میرپور ڈویژن اور آزاد کشمیر کی سیاست میں ان کا کردار کسی ایک دور، کسی ایک منصب یا کسی ایک انتخاب تک محدود نہیں۔ یہ ایک مسلسل حوالہ ہے ایک ایسا معیار جس کے سامنے وقتی شور، عارضی مقبولیت اور فوری فائدہ خود بخود اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔

آخرکار سیاست کا فیصلہ وقت کرتا ہے اور وقت ہمیشہ شور نہیں سنتا وہ تسلسل کیساتھ کی گئی کوشش کو دیکھتا ہے اور وقت دیکھ رہا ہے میرپور کی ترقی کے لیے تسلسل کیساتھ کوشش صرف چوہدری سعید صاحب ہی کر رہے ہیں۔

کالم نگار:

مریم ادریس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *